12 فروری کی رات کو خوشخبری ملی کہ پی آئی اے کا احتجاج ختم ہو گیا ہے اور پروازیں پھر سے اپنے معمول کے مطابق چلیں گی۔۔۔
13 فروری کی صبح دو بج کر پچاس منٹ پر پی آئی اے کی فلائیٹ شارجہ ائیرپورٹ پر لینڈ ہوئی۔۔۔ یہ پرواز ایک بج کر چالیس منٹ پر آنی تھی لیکن کچھ نا معلوم وجوہات کی وجہ سے تاخیر ہوگئی۔۔۔
میں پونے دو بجے ایر پورٹ پہنچ گیا۔۔۔ مجھے شدت سے انتظار تھا وہ چہرہ دیکھنے کا، جو مجھے میری زندگی سے بھی زیادہ عزیز ہے۔۔۔ جس نے میری زندگی میں آتے ہی اسے بہار کر دیا۔۔۔ جو مجھ سے اتنی قریب ہے کہ ہم ایک دوسرے کا بغیر رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔۔جب سے وہ میری زندگی میں آئی تو ہمارا ہر وقت کا ساتھ تھا۔۔۔ لیکن۔۔۔
پھر اسے پاکستان جانا پڑا۔۔۔ اپنی امی کے ساتھ نانا، نانی کے گھر۔۔۔ آج وہ پورے دو ماہ اور تین دن بعد آ رہی تھی۔۔۔
مجھے امید تھی کہ جیسے ہی وہ ٹرمینل سے باہر آئے گی۔۔۔ اور مجھے اپنا منتظر پائے گی تو مچل کر مسکرا اٹھے گی، ویسے ہی جیسے دو ماہ پہلے مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ کھل جاتی تھی۔۔۔
دو گھنٹے ائیر پورٹ کے ارائیول لاونج میں بیٹھے بیٹھے۔۔۔ کبھی موبائل سے کھلیتا اور کبھی کوئی اخبار پکڑ لیتا۔۔۔۔ اور پھر کچھ لمحوں کے بعد نظر فلائیٹس کی معلوماتی سکرین پر اٹھ جاتی کہ شاید اب کم وقت رہ گیا ہو جہاز کے آنے میں۔۔۔ لیکن یہ وقت تھا کہ کٹ ہی نہیں رہا تھا۔۔۔
اللہ اللہ کر کے جہاز کی آمد کا اعلان ہوا اور پھر سے انتظار کی نئی گھڑیاں شروع ہو گئیں۔۔۔ آدھے گھنٹے کے بعد مجھے وہ نظر آئی۔۔۔ اپنی امی کے ساتھ باہر آتی ہوئ۔۔۔ میں خوشی سے نہال ہو گیا اور اس کی جانب لپکا کہ اسے اپنے سینے سے لگا سکوں اور پھر اسے اس کی ماں سے چھین کر اپنی بانہوں میں بھر لیا۔۔۔ اس نے مجھے ایسے دیکھا جیسے وہ مجھے جانتی ہی نہیں۔۔۔ اتنی بے یقینی اس کے آنکھوں میں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔۔۔ شاید وہ مجھے دیکھ کر ڈر گئی تھی۔۔۔ جیسے ہی میں نے اسے تھاما۔۔۔ اس کے ہونٹ تکلیف سے سکڑ گئے اور اس نے رونا شروع کر دیا۔۔۔ میں نے ڈرتے ہوئے پھر سے اسے اس کی اماں کے حوالے کر دیا۔۔۔ اپنی ماں کے پاس جاتے ہی اس کا زور زور سے رونا ہلکی ہلکی سسکیوں میں بدل گیا اور مجھے غصیلی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ پھر سے اپنی ماں سے لپٹ گئی۔۔۔
اسکی اماں نے مجھے مخاطب کیا کہ دو ماہ بعد آپ کو دیکھ رہی ہے تو پہچانی نہیں۔۔۔ ایک دو دن میں پھر سے مانوس ہو جائے گی۔۔۔ یہ سن کر میرے اجڑے ہوئے دل کو حوصلہ ہوا کہ چلو جہاں دو ماہ گزار لیے۔۔۔ یہ دو دن بھی گزر جائیں گے۔۔۔
گھر پہنچنے تک وہ مجھے گھورتی رہی۔۔۔ اور میں اپنی بیٹی، علیزہ عمران کو (جو اب ماشاءاللہ آٹھ ماہ کی ہو گئی ہے) پیار سے منانے کی کوشش کرتا رہا۔۔۔
اب دو دن بعد علیزہ کو اپنے بابا جان یاد آگئے ہیں اور وہ پھر سے میری طرف بانہیں پھیلا کر مجھے بلاتی ہے۔۔۔ اوں اوں کرتی یہ کوشش کرتی ہے کہ میں اسے اٹھا لوں اور وہ میرے کندھے پراپنا سر رکھ کر ادھر ادھر دیکھتی رہے۔۔۔
------------------------------------------------
ایک نظم پڑھی کچھ دن پہلے۔۔۔ جسے پڑھ کر کچھ غمگین سا ہو گیا ہوں۔۔۔ پتا نہیں کیوں جب بھی یہ نظم پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔۔۔ بہت اچھی لگی تو شئیر کر رہا ہوں۔۔۔ امید ہے پسند آئے گی۔۔۔
بیٹی:
مجھے اتنا پیار نا دو بابا۔۔۔
کل جانا مجھے نصیب نا ہو۔۔۔
یہ جو ماتھا چوما کرتے ہو۔۔۔
کل اس پر شکن عجیب نا ہو۔۔
میں جب بھی روتی ہوں بابا۔۔۔
تم آنسو پونچھا کرتے ہو۔۔۔
مجھے اتنی دور نا چھوڑ آنا۔۔۔
میں رووں اور تم قریب نا ہو۔۔۔
میرے ناز اٹھاتے ہو بابا۔۔۔
میرے لاڈ اٹھاتے ہو بابا۔۔۔
میری چھوٹی چھوٹی خواہش پر۔۔۔
تم جان لٹاتے ہو بابا۔۔۔
کل ایسا ہو ایک نگری میں۔۔۔
میں تنہا تم کو یاد کروں۔۔۔
اور رو رو کر فریاد کروں۔۔۔
اے اللہ۔۔۔ میرے بابا سا۔۔۔
کوئی پیار جتانے والا ہو۔۔۔
میرے ناز اٹھانے والا ہو۔۔۔
میرے بابا، مجھ سے عہد کرو۔۔۔
مجھے تم چھپا کر رکھو گے۔۔۔
دنیا کی ظالم نظروں سے۔۔۔
ؐمجھے تم چھپا کر رکھو گے۔۔۔
باپ:
ہر دم ایسا کب ہوتا ہے۔۔۔
جو سوچ رہی ہو لاڈو تم۔۔۔
وہ سب تو بس ایک مایا ہے۔۔۔
کوئی باپ اپنی بیٹی کو۔۔۔
کب جانے سے روک پایا ہے۔۔۔
25 Comments
apki post theek parhi nahi ja rahi tooti phooti urdu hai..
ReplyDeleteحجاب۔۔۔ میں نے فونٹ بدل دیا ہے۔۔۔ اب شاید ٹھیک ہو گیا ہے۔۔۔ دوبارہ پڑھنے کی کوشش کیجیے۔۔۔
ReplyDeleteخدا آپکی اور آپکے اہل خانہ کی خوشیاں سلامت رکھے۔ آمین۔
ReplyDeleteانڈین گانا اتنے مقدس تعلق پہ سجتا نہیں۔ میں پاکستانی سمجھدار اور پڑھے لکھوں سے ہمیشہ یہ امید رکھتا ہوں کہ وہ کوئی اہنا سا کام کریں۔ مواد موجود نہ ہو تو خود سے چریٹ کیا جاسکتا ہے۔ اگر گانا نہیں تو کوئی نظم یا شعر بھی ہوسکتا تھا۔ بچیوں بیٹیوں کے بارے میں ویسے بھی ہماری لوک فلوک میں بہت سی شاعری بھری پڑی ہے۔
بہرحال یہ ایک تجویز ہے لازمی نہیں کہ آپ اس سے اتفاق کریں۔
اللہ آپکی بیٹی کی، آپ کی ، اور سب گھوالوں کی خوشیاں سلامت رکھے آمین
محبت پدری ،شفقت پدری، ابا جی کی بی چینی۔
ReplyDeleteبہت خوب جی۔
علیزہ جی کو ہماری طرف سے بھی بہت بہت پیار کریں۔
MashaAllah
ReplyDeleteBetiyan Allah pak ki Rehmat hoti hain
Allah pak apki Beti ko sehat o tandrustui de aur ap keliye Baais e Fakhar banaye
Ameen
واقعی آپ نےاپنےجذباب کابہت خوبصورت اظہارکیاہے۔میں بھی جب تقریباچودہ ماہ کےبعدگھرگیاتومیری بیٹی جس کودیکھےکوچودہ ماہ ہوچکےتھےاس نےبھی ایساہی کیاتھاکہ میرےپاس توآئی لیکن پہچان نہ سکی پھرجب واپسی چھٹی سےآیاہوں توکہتی کہ باباکہاں گئے۔یہ رشتےایسےہی نازک ہوتےہیں ۔اللہ تعالی آپ کےخاندان کوہمیشہ خوش و خرم رکھے۔ آمین ثم آمین
ReplyDeleteجاوید صاحب۔۔۔ آپ نے بلکل درست فرمایا۔۔۔ واقعی ہمیں ہر جزبے کے اظہار کے لیے انڈین گانوں کی طرف نہیں دوڑنا چاہیے۔۔۔ میں کچھ تبدیلی کر دی ہے اپنی پوسٹ میں۔۔۔ امید ہے آپ کو پسند آئے گی۔۔۔
ReplyDeleteدعاووں کے لیے بے حد شکریہ۔۔۔
یاسر بھائی، عندنان شاہد صاحب اور جاوید اقبال صاحب۔۔۔ آپکے تبصروں اور دعاووں کا بہت بہت شکریھ۔۔۔
ReplyDeleteعلیزہ کو مجھے پہچاننے میں دو دن لگ گئے اور یہ دو دن میں بہت کشمکش میں رہا کہ کیسے اسے یاد دلاوں کہ میں اسکا بابا ہوں۔۔۔ بڑی الچھن ہوتی رہی۔۔۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اب وہ میرے پاس خوشی سے آ جاتی ہے۔۔۔ لیکن اپنے دادا اور دادی سے تو اب بھی ڈرتی ہے۔۔۔۔
اللہ سب بیٹیوں اور بہنوں کے نصیب اچھے کرے۔۔۔ بیٹیاں اور بہنیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔۔۔
کوئی باپ اپنی بیٹی کو۔۔۔
ReplyDeleteکب جانے سے روک پایا ہے۔۔۔
لاریب۔۔ کوئی شک نہیں۔
نظم بہت اچھی ہے اور اسمیں بیٹی کے جذبات کی عمدہ عکاسی کی گئی ہے۔
boht hi kubsurti sa tum na iss relatiön ko batiya ha.mujay b abbu g yaad a gay ha.Allha pak un ko sahat or zindagi atta kary or hum sub ki battiyon ka naseeb achay kary ameen
ReplyDeleteThanks for the comment Aaisha... Aur duaaon kai liye bhee bohat shukria...
ReplyDeleteبہت خوبصورت تحریر ہے ۔۔ میں تصور میں سب کچھ دیکھ کے :) :) علیزہ بہت پیاری سی پری ہے فیس بُک پر تصویر دیکھی ہے میری طرف سے بہت ساری دعائیں علیزہ اور آپ کے لیئے ہمیشہ خوش باش رہیں آمین ۔۔
ReplyDeleteحجاب۔۔۔ بہت بہت شکریہ آپ کے تبصرے اور دعاووں کا۔۔۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ بہنیں اور بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں۔۔۔ اللہ سب کے نصیب اچھے کرے۔۔۔ آمین۔۔۔
ReplyDeleteبہت ضوب عمران بھائی،
ReplyDeleteتحریر میں آپکی بیٹی کے لیے محبت لفظ لفظ سے برس رہی ہے۔ اللہ آپ کی گڑیا کو ہمیشہ سلامت اور خوش رکھے اور وہ آپکی زندگی میں رونق اور خوشی بھرتی رہے۔ امین
کاینات بیٹا۔۔۔ بہت شکریہ۔۔۔ تحریر کی تعریف اور دعاووں کے لیے بہت شکریہ۔۔۔
ReplyDeleteاللہ آپکو اور آپکی پوری فیملی کو ہر بری گھڑی سے محفوظ فرمائیں، اور آپکی بیٹی کا نصیب بہت بہت بہت اچھا فرمائیں آمین۔
ReplyDeleteفکر پاکستان: دعاووں کے لیے بہت شکریہ۔۔۔
ReplyDeletemjhy bhi apni betion ki pedaish k din yaad agay
ReplyDeleteAllah Aap ki beti k Naseeb achy kry
Ameen
[...] میرے گھر آئی ایک ننھی پری۔۔۔ [...]
ReplyDeleteبہت پیارے اور لطیف جزبات نظر آئے اس پوسٹ میں آپکے۔۔
ReplyDeleteویسے
اپکی یہ پوسٹ پڑھ کی مجھے بھی اپنی ہونے والی بیٹی کی ہونے والی ماں یاد آ گئی۔۔
:ڈ
امتیاز بھاءی ۔۔۔ اللہ آپ کو ایک ننھی سی بیٹی کی بڑی سی اور اچھی ماں عطا فرماءے۔۔۔ آمین۔۔۔
ReplyDeleteاتنی پیاری دعا آپنے امتیاز کو دے دی
ReplyDeleteکہیں لگ ہی نہ جائے اس کو۔۔
میرا نام تو بلا امتیاز ہے
:(
ماشااللہ ، اللہ تعالیٰ علیزہ کی دنیا اور آخرت کو بہترین بنائیں ۔
ReplyDeleteانکل ٹام۔۔۔ اتنی پیاری دعا کے لیے بہت بہت شکریہ۔۔۔ اللہ آپ کی بھی اور سب مسلمانوں کی دنیا اور آخرت بہترین بنائے۔۔۔ آمین۔۔۔
ReplyDeleteDear Imran
ReplyDeleteVery well said, Koi shafeeq baap hi apni jazbaat ko is tarah bayan kar sakta ha. Aur Koi samajhne wala hi samajh sakta hai. Kehte hain na Andha kya jaane Basant ki bahar. Meri Duaen aur Naek Tamannain hamari beti ke liye. Bahut hi Rashk hai tumhari tehrir pe ke Ankhen bheege bagher reh nai payen. Aap aur sub ghar wale sub khush rahen.(آمےن)
اگر آپ کو تحریر پسند آئی تو اپنی رائے ضرور دیجیے۔