اس تصویر کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے۔۔۔ ؟
نوید آصف الحمرا ہال لاہور کے اس جلسے میں کوئی سیٹ نہ ملنے پر سیڑھیوں پر بیٹھا تھا۔جس میں اسے گولڈ میڈل ملنا تھا۔ اس نے لاہور بورڈ کے امتحان میں پورے نو سو انیس نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔دوسری پوزیشن حاصل کرنے والا طالب علم اوکاڑہ کے گاﺅں ناریوال سے تھا۔اس کا اسکول اس کے گھر سے سات کلو میٹر دور تھا۔ جہاں وہ روزانہ پیدل جاتا تھا۔اس جلسے میں آنے سے پہلے وہ شام کو اپنی ماں کے پاس بیٹھا تھا۔ کہ لاہور میٹرک بورڈ کے اہلکاروں کی ایک ٹیم اسے دھونڈتی ہوئی اس کے گاﺅں پہنچی۔ نوید اقبال اور اس کی ماں ان کی آمد کی خبر پا کر ڈر سے گئے۔ چند دن پہلے ان کی بھینس چوری ہوگئی تھی۔چوری کے اس واقعے سے وہ دلبرداشتہ تھے۔پھر انھیں خوشخبری سنائی گئی کہ نوید اقبال لاہور میٹرک بورڈ کے امتحان میں دوسرے نمبر پر آیا ہے۔ اور کل وزیر اعلی پنجاب اسے ایک تقریب میں گولڈ میڈل دیں گے۔نوید اقبال لاہور الحمرا پہنچ گیا۔ لیکن اس جلسہ گاہ میں جہاں اس کی اعلی کارکردگی کو سراہا جانا تھا، اس کے لئے کوئی نششت خالی نہ تھی۔وہ جلسہ گاہ کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیا۔پھر جب اس کا نام پکارا گیا تو پتہ چلا کہ یہ تو وہ طالب علم ہے جس نے گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔اسپنچ کی چپل پہن کر اس نے گولڈ میڈل حاصل کیا
15 Comments
یہ تصویر پاکستان میں حکمرانوں کی نظر میں تعلیم کی ناقدری ظاہر کرتی ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے جس دن عوام پڑھ لکھ گئی اس دن وہ کرپشن نہیں کر سکیں گے۔
ReplyDeleteغربت انسان کو اُس کے موجودہ حال پر کبھی نہیں چھوڑتی۔ غربت یا تو انسان کو تعلیم کی ضرورت کا احساس دلا کا کامیاب انسان بنا دیتی ہے یا پھر شیطان کے ہاتھوں میں چھوڑ دیتی ہے۔ ان دونوں حالتوں کی ذمہ دار صرف انسان کی تربیت اور ماحول ہوتی ہیں۔ اگر تو نوید آصف جیسے فرزند نے کسی قابل ماں سے تربیت حاصل کی ہو تو کامیاب ہو جاتا ہے اور اگر کسی غریب کے بچہ غلط تربیت میں پلے تو غربت اُسے شیطانی راستوں پر چلا دیتی ہے۔
ReplyDeleteجسے سر پہ بٹھانا چاہیے اسے سیڑھیوں پہ بٹھا رکھا ہے..
ReplyDelete[...] This post was mentioned on Twitter by UrduFeed, Imran Iqbal. Imran Iqbal said: لائق لیکن غریب طالبعلم: http://wp.me/p12iX2-4V [...]
ReplyDeleteاس تصویر سے منسلک واحد مثبت بات یہ ہے کہ خادم اعلیٰ شہباز شریف نے جب نوید آصف کو سیڑھیوں پر بیٹھے دیکھا تو اسے اپنی نشست آفر کر دی کیونکہ باقی بڑے لوگوں کو عقل نہیں تھی۔۔۔ اور وہ اپنے آپ کو نوید آصف سے زیادہ اہم سمجھ رہے تھے۔۔۔
ReplyDeleteہمارے حکمرانوں کو ایسے بچوں کو خاص اہمیت دیتے ہوئے اعلی تعیلم دلاانی چاہیے ۔۔۔ جو ان کا حق ہے ۔۔یہاں کم از کم اس کا میڈل کسی اور کو نہیں دیا گیا ۔اور اس بچارے کے ہاتھ چند ہزار روپے ۔
ReplyDeleteاپنی شاعری دیکھ کر خوشی ہوئی ۔ ۔
میں ہاں کمی کمین اے ربا میرئ کی اوقات
اچا تیرا نام ہے رب اچی تیری ذات
بہت شکریہ
تانیہ رحمان صاحبہ۔۔۔ السلام علیکم۔۔۔ آپ کے تبصرے کا بہت شکریہ۔۔۔ اور پھر معذرت کہ میں نے آپ سے پوچھے بغیر ہی آپکی شاعری اپنے بلاگ میں استعمال کر لی۔۔۔ اور پھر کہیں آپ کا ریفرنس بھی نہیں دیا۔۔۔ عجب خود غرضی سمجھ لیں یا بھولنے کی عادت۔۔۔ میں واقعی شرمندہ ہوں۔۔۔
ReplyDeleteدراصل اس پوری نظم کا ایک ایک حرف میرے دل میں اس قدر اتر چکا ہے اور میں اس کو اتنی بار پڑھ چکا ہوں کہ اب زبانی یاد ہو گئی ہے۔۔۔ جب پہلی بار یہ پڑھی تھی تو ایسا محسوس ہوا کہ واقعی بلھے شاہ یا کسی عارف شاعر نے لکھی ہے لیکن آج دوبارہ آپ کے بلاگ پر جب پڑھی تو حقیقت سے آشنا ہوا کہ یہ نظم آپ نے لکھی ہے۔۔۔ میں واقعی شرمندہ ہوں کہ جذبات میں "کاپی رائٹ" کا بھی خیال نہیں رکھ پایا۔۔۔ امید ہے آپ کو واقعی برا نہیں لگا اور آپ اسے میرے بلاگ میں رکھنے کی اجازت دیں گی۔۔۔ ورنہ میں آپ کے حکم کا منتظر ہوں کہ اسے بلاگ سے مٹا دوں۔۔۔ لیکن یاد رکھیے گا کہ بلاگ سے تو مٹ جائے گی لیکن دماغ سے نہیں مٹا پاوں گا۔۔۔ یہ نظم ایک ماسٹرپیس ہے۔۔۔ اور میں واقعی بہت باذوق ثابت ہوا ہوں۔۔۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔
شاہ رخ صاحب۔۔۔ آپ نے درست فرمایا۔۔۔
ReplyDeleteاچھائی اور برائی کا معیار واقعی اب دولت اور غربت میں فرق ہی رہ گیا ہے۔۔۔ اس بچے کی کامیابی کے پیچھے اس کی محنت سے زیادہ اس کے والدین کی محنت ہے۔۔۔ جنہوں نے اسے بھٹکنے نہیں دیا۔۔۔ اور گھر میں ایسا ماحول بنایا جس میں اس بچے کو پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔۔۔
اب غربت چوریاں، ڈاکے اور قتل و غارت بھی کرواتی ہے اور غربت ایمانداری سے ترقی اور کامیابی کا راستہ بھی دکھاتی ہے۔۔۔ ہر عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔۔۔ اور نیت اور تربیت اچھی ہو تو شیطان کا کام زرہ مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔
آپ کے تبصرے کا بہت شکریہ
پاکستان کو ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے جن میں محنت کا جزبہ موجود ہو۔ اور وہ صرف باتیں بنانے کے بجائے کچھ مثبت کرکے دکھائیں۔
ReplyDeleteپتا نہیں ایسے کتنے ہی لوگ موجود ہوں گے جو بہت محنت کرکے پڑھ بھی لیتے ہیں تو میڈل تو دور کی بات ان کا کہیں ذکر تک نہیں ہوتا۔ ہاں انڈین موویز اور ایکٹرز کی ہر خبر ہیڈ لائن نیوز بناکر ضرور دکھائی جاتی ہے۔
اگر امتحان کا نام اور اس بچے کے سکول کا نام بھی معلوم ہو جاتا تو بہتر تھا
ReplyDeleteعمران اللہ پاک آپ کا اقبال بلند کرئے ۔۔۔ میرا مقصد یہ ہرگز نہیں ہے کہ آپ نے کیوں لگائی ۔ مجھے خوشی ہوئی ۔۔۔ جب لکھتی تھی۔۔۔۔ تب سے لے کر آج تک یہ مجھے خود بہت اچھی لگتی ہے ۔ میں اس کے بعد نہیں لکھ پائی ۔۔ بابا بلھے شاہ میرے پسندیدہ صوفی شاعر ہیں ۔۔۔ جب میرے والد صاحب نے میری یہ شاعری پسند کی تو آپ سمجھ لیں کہ اس کے بعد کچھ بھی کہنے کو باقی نہیں بچا ۔۔۔۔ حضرت بابا بلھے شاہ کے کلام کی سب سے بڑی خوبی جو ان کو سب سے الگ رکھتی ہے ۔ وہ اپنی ذات سے نکل کر بات کرتے ہیں ۔۔۔میں میں نہیں بس وہی وہی ہوتا ہے ۔
ReplyDeleteنوید آصف الحمرا ہال لاہور کے اس جلسے میں کوئی سیٹ نہ ملنے پر سیڑھیوں پر بیٹھا تھا۔جس میں اسے گولڈ میڈل ملنا تھا۔ اس نے لاہور بورڈ کے امتحان میں پورے نو سو انیس نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔دوسری پوزیشن حاصل کرنے والا طالب علم اوکاڑہ کے گاﺅں ناریوال سے تھا۔اس کا اسکول اس کے گھر سے سات کلو میٹر دور تھا۔ جہاں وہ روزانہ پیدل جاتا تھا۔اس جلسے میں آنے سے پہلے وہ شام کو اپنی ماں کے پاس بیٹھا تھا۔ کہ لاہور میٹرک بورڈ کے اہلکاروں کی ایک ٹیم اسے دھونڈتی ہوئی اس کے گاﺅں پہنچی۔ نوید اقبال اور اس کی ماں ان کی آمد کی خبر پا کر ڈر سے گئے۔ چند دن پہلے ان کی بھینس چوری ہوگئی تھی۔چوری کے اس واقعے سے وہ دلبرداشتہ تھے۔پھر انھیں خوشخبری سنائی گئی کہ نوید اقبال لاہور میٹرک بورڈ کے امتحان میں دوسرے نمبر پر آیا ہے۔ اور کل وزیر اعلی پنجاب اسے ایک تقریب میں گولڈ میڈل دیں گے۔نوید اقبال لاہور الحمرا پہنچ گیا۔ لیکن اس جلسہ گاہ میں جہاں اس کی اعلی کارکردگی کو سراہا جانا تھا، اس کے لئے کوئی نششت خالی نہ تھی۔وہ جلسہ گاہ کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیا۔پھر جب اس کا نام پکارا گیا تو پتہ چلا کہ یہ تو وہ طالب علم ہے جس نے گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔اسپنچ کی چپل پہن کر اس نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔۔۔
ReplyDeleteابھی کا ایک واقعہ ہے۔ دور دراز کے علاقے کا رہنے والا سفید پوش اور غیور ماں باپ کا پہلا بیٹا اور چار پانچ بہن بھائیوں کا سب سے بڑا بھائی لاہور میں ایک انجنرئنگ میں ہر سال پوزیشن لیتا رہا ہے۔ وزیر اءلی پنجاب کی ایماء پہ حکومت کی طرف سے دیگر طالبعلموں سمیت اسے انجئرنگ کے پہلے سال سے وطیفہ دئیے جانے کا اعلان سے کیا جاتا ہے۔ وہ بچہ متواتر سھبی متعلقہ اداروں کی خاک چھانتا ہے اس کے منظور کئے گئے وطیفے کی رقم سے اسے ایک پائی بھی نہیں ملتی حتٰی کہ وہ اپنے سفید اور غیور ماں باپ کی دعاؤں اور تعلیمی اخراجات جیسے تیسے پورے کرنے کی بدولت پنجاب بھر میں امتیازی نمبروں سے انجنرئنگ کی تعلیم مکمل کر لیتا ہے ۔ وزیر اعلٰی پنجاب بہ نفس نفیس دیگر کے ساتھ اسے بھی شرف ملاقات بخشتے ہیں۔ انعام وکرام کا اعلان ہوتا ہے۔ وہی منظور شدہ وظیفہ کا امیدوار اور امتیازی ہوزیشن لینے والا انعام اکرام کے اعلانات کے بعد ایک بار پھر سے مایوس و دل گرفتہ اپنے آبائی علاقے کو لوٹ جاتا ہے اسے پھر سے ایک پھوٹی کوڑی ادا نہیں کی گئی ۔ اور روزگار کی تلاش میں جوتیاں چٹخا رہا ہے۔
ReplyDeleteآپ اسے کیا کہیں گے؟۔ اسطرح کے اعلانات ہوتے ہیں اور پاکستانی سیاستدان ایسے اعلانات کے بعد ان پہ عمل درآمد سے بے خبر ہوجاتے ہیں۔ چیک ملتے ہیں مگر کئیش نہیں ہوتے۔
عمران شہباز شریف ہوں یا کوئی اور سیاست دان غریب معصوم عوام کے دل میں جگہ بنانے کے لیئے اتنا تو کرتے ہیں ، اب شہباز شریف کا ایک ووٹ تو پکا ہوا ۔۔ ورنہ تو گولڈ میڈل دے دیا ، گولڈ مہنگا ہے جب تک اس سے کام چل سکے چلائے غریب طالب علم ، آگے کی پرواہ اگر کی تو وہ پاکستانی سیاست تو نہ ہوئی ۔۔
ReplyDelete[...] لائق لیکن غریب طالبعلم [...]
ReplyDeleteاگر آپ کو تحریر پسند آئی تو اپنی رائے ضرور دیجیے۔